آج کا نصاب
آج کے ریٹ آ رہے ہیں…
آج سونے کا ریٹ
| سونا | قیمت |
|---|---|
| 24 قیراط، 1 تولہ | … |
| 24 قیراط، 10 گرام | … |
| 24 قیراط، 1 گرام | … |
| 22 قیراط، 1 تولہ | … |
| 22 قیراط، 1 گرام | … |
| 21 قیراط، 1 تولہ | … |
| 18 قیراط، 1 تولہ | … |
| 24 قیراط، 1 اونس | … |
آج چاندی کا ریٹ
| چاندی | قیمت |
|---|---|
| 1 تولہ | … |
| 1 گرام | … |
| 1 اونس | … |
یہ ریٹ کہاں سے ہیں؟
یہ خالص سونے اور چاندی کے عالمی منڈی کے ریٹ ہیں جو آپ کی کرنسی میں بدل کر دکھائے گئے ہیں۔ یہ روزانہ ایک بار بدلتے ہیں، اور یہی ریٹ زکوٰۃ کیلکولیٹر میں خود بھر جاتے ہیں۔
آپ کے شہر کے صرافہ بازار کا ریٹ اس سے تھوڑا کم یا زیادہ ہو سکتا ہے، کیونکہ دکاندار اپنا منافع اور بنوائی شامل کرتے ہیں۔ 22، 21 اور 18 قیراط کا ریٹ یہاں خالص سونے کے حصے کے حساب سے ہے، اس لیے بنے ہوئے زیور کی دکان والی قیمت اکثر زیادہ ہوتی ہے۔
بہت سے علماء کے نزدیک زکوٰۃ میں وہ قیمت لگائی جائے جس پر آپ اپنے بازار میں اصل میں بیچ سکیں۔ اگر آپ کے بازار کا ریٹ مختلف ہے تو کیلکولیٹر میں اپنا ریٹ لکھ دیں، حساب اسی سے ہو گا۔
نصاب کیا ہے؟
نصاب وہ کم سے کم مال ہے جس پر پورا قمری سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ یہ وزن سے طے ہے: ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی۔ پیسوں میں اس کی قیمت روز سونے چاندی کے ریٹ کے ساتھ بدلتی ہے، اسی لیے یہ صفحہ آج کا نصاب دکھاتا ہے۔
سونے کا نصاب یا چاندی کا؟
چاندی سونے سے بہت سستی ہے، اس لیے چاندی کا نصاب کافی کم بنتا ہے۔ اس سے زیادہ لوگوں پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے اور زیادہ مستحقین تک پہنچتی ہے، اسی لیے بہت سے علماء، خاص طور پر حنفی، چاندی کے نصاب کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر صرف سونا ہو اور کچھ نقدی نہ ہو تو سونے کا نصاب دیکھا جاتا ہے۔ اپنے معاملے میں کسی معتبر عالم سے پوچھ لیں؛ کیلکولیٹر میں دونوں کا اختیار ہے۔
سونے پر زکوٰۃ کیسے نکالیں؟
اپنے سونے کا وزن اور قیراط دیکھ کر آج کے ریٹ سے اس کی قیمت نکالیں۔ نقدی اور بچت ملا کر اگر کل مال نصاب کے برابر یا زیادہ ہو اور اس پر قمری سال گزر چکا ہو تو اس کا ڈھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ ہے۔ مثال: 10 تولہ 24 قیراط سونا اوپر لکھے "1 تولہ" ریٹ کا دس گنا ہے، اور اس کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ بنے گی۔
یہ اعداد صرف رہنمائی کے لیے ہیں، فتویٰ نہیں۔ اپنے معاملے میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔ This page in English